قاری سیّد محمد عثمان منصورپوری کی رحلت پر مولانا ارشد مدنی کا اظہارِ رنج و غم

نئی دہلی: دارالعلوم دیوبند کے معاون مہتمم مولانا سید قاری محمد عثمان منصورپوری کے انتقال پرملال پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہارکرتے ہوئے صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سیدارشدمدنی وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند نے کہاکہ یہ میرے لئے بہت دکھ کی گھڑی ہے میرے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ اپنے دکھ کا اظہار کس لفظوں میں بیان کروں، اور قاری صاحب کے انتقال سے علمی وملی دنیامیں جو خلاپیداہوا اس کی تلافی مشکل ہے۔مولانا مدنی نے افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ پچھلے چند مہینوں میں دارالعلوم دیوبند کے بڑے بڑے اساتذہ چھوڑ کر چلے گئے اور آج قاری عثمان صاحب بھی داغ مفارقت دے گئے۔ قاری صاحب مرحوم نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد جامعہ قاسمیہ گیا (بہار) میں تدریسی خدمات انجام دیں، اس کے بعد ایک زمانہ تک جامعہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ میں رہے، پھر 1982ء میں امروہہ سے دارالعلوم دیوبند آگئے۔ قاری صاحب کو علم حدیث سے خاص شغف تھا اور دارالعلوم یوبند میں ان کے پڑھانے کا موضوع بھی علم حدیث ہی تھا ، ساتھ ساتھ ان کے اندرمعاملہ فہمی ، امانت و دیانتداری بدرجہ اتم موجودتھی، جس کی وجہ سے 1999ء سے 2010ء تک وہ دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم رہے، اس وقت بھی وہ معاون مہتمم اورجمعیۃعلماء ہند کے صدر تھے۔ ان کی بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ بچوں کی تربیت میں ان کو کمال کا درجہ حاصل تھا،انہی کی تربیت کی وجہ سے ان کے دونوں بچے محمد سلمان اور محمد عفان سلمہماماشاء اللہ علم وعمل کے اعتبارسے مشہورومعروف ہیں، آخری وقت میں ان بچوں نے بہت خدمت کی اور ان کے ساتھ سایہ کی طرح رہے ، اللہ تعالیٰ بچوں کی خدمت کو قبول فرمائے اور ان کی نگہبانی فرمائے اور قاری صاحب کی مغفرت فرمائے۔ مولانا مدنی نے جماعتی رفقائ، اربابِ مدارس، دارالعلوم سے منسلکین اور طلباء عزیز سے قاری صاحب مرحوم کے لئے دعائے مغفرت اور زیادہ سے زیادہ ایصال ثواب کی درخواست کی ہے۔
قاری صاحب مرحوم کا آبائی وطن منصورپور، ضلع مظفرنگر تھا۔ 2اگست 1944ء کو سادات بارہا کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد گرامی نواب سیّد محمد عیسیٰ نہایت صالح اور متقی تھے، نواب صاحب شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی ؒ سے بیعت تھے۔ انھیں اولاد کو علم سے آراستہ کرنے کا بے پناہ جذبہ اور انتہائی لگن تھی، اس کی خاطر گھر انھوں نے چھوڑ کر دیوبند میں اقامت اختیار کرلی اور بچوں کو دینی تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند میں داخل کرایا۔ قاری عثمان صاحب مرحوم انہی کے بیٹے تھے۔ آخری وقت میں قاری صاحب مرحوم کے والد نے کہا کہ یہ نہ سمجھنا کہ میں کسی اور غرض سے دیوبند آیا ہوں، میں تو صرف مزارِ قاسمی میں تدفین کے لیے آیا ہوں۔ میرے انتقال کے بعد میری تدفین یہیں کرنا۔ 1963 میں دیوبند ہی میں نواب صاحب کا انتقال ہوااور مزارِ قاسمی میں تدفین عمل میں آئی۔

source:https://qindeelonline.com/qari-sayyed-usman-mansoor-puri-ki-rahlat/