نئی دہلی 9/اگست 2023 جمعیۃعلماء ہند کے مولانا ارشدمدنی کی ہدایت پر مولانا محمد ہارون صدرجمعیۃعلماء متحدہ پنجاب اورمولانا محمد راشدقاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃعلماء راجستھان کی سربراہی میں جمعیۃعلماء ہند کاایک وفدنوح اوراس کے اطراف میں متاثرہ علاقوں کے دورہ پر ہے، وفدایک طرف جہاں فسادمیں ہوئے نقصانات اوروہاں کے موجودہ حالات کا جائزہ لے رہا ہے وہیں دوسری طرف ریاستی سرکارکے حکم پر مسمارکئے گئے مکانوں اوردوکانوں اوراس سے ہونے والے نقصانات کاجائزہ بھی لے رہاہے، وفدکے مطابق اس علاقہ میں شرپسند عناصرکے ذریعہ مجموعی طورپر 14مسجدوں پر حملے کئے گئے جن میں سے ایک مسجد کوتوپوری طرح جلادیا گیا جبکہ 13مسجدوں کوجزوی طورپر نقصان پہنچایاگیاہے، صدرمحتر م کی ہدایت کے مطابق یہ وفدبیک وقت کئی پہلوؤں سے صورتحال کا جائزہ لے رہاہے،جلائی گئی عبادت گاہوں، درگاہوں، مکانوں اوردوکانوں کی مکمل رپورٹ تیارکی جارہی ہے دوسری طرف جن گھروں اوردوکانوں کو ریاستی سرکارکے حکم سے بلڈوزرکے ذریعہ گرایا گیا ہے ان کی فہرست بھی تیارکی جارہی ہے قابل ذکرہے کہ اس ظالمانہ کارروائی سے ہونے والے نقصانات کے معاوضہ اوربازآبادکاری کے لئے جمعیۃعلماء ہند پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ میں بھی قانونی چارہ جوئی کرنے جارہی ہے، اس کے علاوہ جمعیۃعلماء ہند ان ضرورتمندافراداورغریب مزدوروں کو عبوری مالی مددبھی فراہم کررہی ہے جن کی روزی روٹی کا سردست کوئی سہارانہیں رہ گیا ہے ایسے لوگ میوات کے مختلف علاقے میں رہتے ہیں اوران کی باضابطہ فہرست سازی کاکام جاری ہے، امدادی اورفلاحی کاموں میں جمعیۃعلماء ہند کے رضاکاراورکارکن پوری تندہی سے لگے ہوئے ہیں دورے کے دوران وفدنے بڈکلی چوک کا بھی دورہ کیا جہاں انتطامیہ نے دوکانوں کے ساتھ سڑکوں کے کنارے لگائے گئے غریب لوگوں کے اسٹالوں کو بھی زمین بوس کردیا گیا ہے، بعدازاں وفدنے سوہناکادورہ کیاجہاں جامع مسجد کو شدید نقصان پہنچاہے، سوہناکی تیسری مسجد لکڑشاہ پر بھی شرپسندوں نے حملہ کرکے آگ لگادی تھی اس وقت مسجدمیں شرپسندوں سے بچنے کے لئے کئی لوگوں نے پناہ لے رکھی تھی جن میں بچے بھی شامل تھے، لیکن عین موقع پر علاقے کے سکھ بھائیوں نے نہ صرف انہیں بچالیا بلکہ ان کو دیکھتے ہی تمام شرپسندعناصروہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے وفدنے نوح میں واقع درگاہ نہلادکابھی دورہ کیا جو گزشتہ سال کی طرح ایک بارپھر شرپسندوں کے ذریعہ شہید کی جاچکی ہے، وفدنے کھڈکھڑی پل کے قریب جلائی گئی دوکانوں کا بھی معائنہ کیا جوجل کر راکھ کا ڈھیربن چکی ہیں دوسری طرف ناجائز قبضہ کی آڑمیں نوح میں واقع ہریانہ ٹائلس کو بھی بلڈوزرکے ذریعہ گرادیا گیا ہے، وفدکو مقامی لوگوں نے بتایاکہ انتظامیہ نے ایسے سیکڑوں مکانوں اوردوکانوں کو بھی مسمارکروادیاہے جو لوگوں کی نجی زمینوں پر تھیں، وفدکو یہ بھی بتایاگیاکہ گھروں اوردوکانوں کو مسمارکرنے کی انتظامیہ کی طرف سے پیشگی کوئی اطلاع نہیں دی گئی جس کی وجہ سے زیادہ ترلوگ اپنا سامان گھروں سے نکال نہیں سکے،جن کے گھروں کومسمارکرایاگیاہے ان میں اکثریت ان غریب لوگوں کی ہے جو محنت مزدوری کرکے اپنا اوراپنے اہل خانہ پیٹ پال رہے تھے، چنانچہ بلڈوزر کی کارروائی کے بعد وہ کھلے آسمان کے نیچے وہ رہنے پرمجبورہیں ان حالات کے پیش نظر وفدنے فیروزپورجھرکہ میں دودھ کی گھاٹی میں عارضی طورپر خیمہ زنی کے لئے سوخاندانوں میں ترپال تقسیم کی، ان میں 20ایسے غیر مسلم خاندان بھی ہیں جو بے گھر ہوئے ہیں اورجن کاکوئی پرسان حال نہیں ہے، وفدنے انہیں بھی ترپال پیش کیا، فسادمتاثرین کوعبوری طورپرمالی امدادبھی وفدکے ذریعہ فراہم کی جارہی ہے، جمعیۃعلماء ہند کے اس عمل کی یہاں لوگ ستائش کررہے ہیں کہ امدادکے وقت وہ مذہب کی بنیادپر کسی طرح کاکوئی امتیازنہیں برت رہی ہے بلکہ جو بھی متاثرین ہیں انہیں بلالحاظ مذہب وملت ہر ممکن مدداورتعاون فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے، وفدکو یہ واضح ہدایت ہے کہ میوات کے متاثرہ علاقوں میں جوبھی فلاحی وامدادی کام کئے جائیں وہ انسانیت کی بنیادپرہوں اورکسی کے ساتھ کوئی امتیازنہ برتاجائے کیوں کہ جمعیۃعلماء ہندکی یہ تاریخ رہی ہے کہ اس نے جوبھی کام کیا ہے وہ انسانیت کی بنیادپر کیاہے وفدکادورہ ابھی جاری ہے فساداوربلڈورزرکارروائی سے ہوئے نقصانات کا سروے کرکے وفداپنی تفصیلی رپورٹ مرکزدفترکو پیش کرے گااس رپورٹ کی بنیادپر ہی جمعیۃعلماء ہند میوات کے متاثرہ علاقوں میں جامع فلاحی وامدادی کام کا خاکہ تیارکرے گی۔ وفدمیں صدرجمعیۃعلماء متحدہ پنجاب وجنرل سکریٹری راجستھان کے علاوہ مولانا محمد الیاس کاماں، مولانا شبیرجمعیۃعلماء فیروزپور،مولانا محمد صابرقاسمی، مولانا امجدجنرل سکریٹری جمعیۃعلماء راجستھان، مولانا اطہرقاسمی فیروزپور،مولانا حسین،مفتی وسیم آلی، مولانا ہاشم،مولاناشوکت علی اورمولانا مظہر وغیرہ شامل ہیں۔